نئی دہلی، 17؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مرکز کی نریندرمودی حکومت ججوں کی جوابدہی سے متعلق بل میں کام کاج کی تشخیص سے متعلق دفعہ شامل کرنے کے بعد اب اسے دوبارہ لانے کی تیاری کر رہی ہے۔سابقہ یو پی اے حکومت کے وقت کے اس بل میں ججوں کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے لیے ایک نظام بنانے کی پیروی کی گئی تھی۔نئے بل کا خاکہ اسی سال فروری میں انصاف فراہم کرنے اور طریقہ کار کو بہتر بنانے کے قومی مشن کی مشاورتی کونسل کے اجلاس میں بحث کے لیے پیش کیا گیا تھا۔حکام نے اس اجلاس میں کہاکہ یہ محسوس کیا گیا ہے کہ ملک میں عدالتی جوابدہی کی ضرورت کو عدالتی ضابطہ اور عدالتی بے ضابطگی سے متعلق مسائل تک محدود کیا جا رہا ہے۔اگر ہندوستان عدالتی اصلاحات کے فریم ورک پر عمل کرتا ہے تو اس کا دائرہ اور بڑھ سکتا ہے اور ملک کے قانونی طریقہ کار میں اثراندازی اور شفافیت کے مسائل کو لایا جا سکتا ہے۔حکومت کے ذرائع نے کہا کہ جب بل کو وسیع بحث کے لیے لایا جائے گا تو ہائی کورٹوں میں کام کاج کے انڈیکس کے معاملے پر بحث کے علاوہ تھنک ٹینک کی رپورٹ کا استعمال کیا جائے گا۔اس اجلاس کے لیے تیار وزارت قانون کے ایک نوٹ میں کہا گیاہے کہ ججوں کے درمیان آزادی، انصاف اور جوابدہی کو پیدا کرنے کے لیے ایک نظام پر بلا تاخیر غورکیا جانا چاہیے ۔اسے عدالتی معیار اور جوابدہی بل کی ترمیم شدہ شکل کو پھر سے لا کر کیا جا سکتا ہے۔اس بل کو مارچ 2012میں لوک سبھا نے منظور ی دے دی تھی ، لیکن عدلیہ اور قانونی ماہرین کی جانب سے اعتراض کئے جانے کے بعد راجیہ سبھا میں اس میں ترمیم کی گئی ۔عدلیہ اور ماہرین قانون نے اس کی کچھ دفعات کی مخالفت کی تھی۔